IT for Change

کتھے خجانے - اردو

یہ آڈیو کہانیاں کرناٹک کے گورنمنٹ ہائر پرائمری اسکولوں کے اساتذہ نے 'انٹیگریٹنگ ڈیجیٹل اسٹوری بیسڈ پیڈاگوجی ان لینگویج ایجوکیشن' پروگرام کے دوران منعقدہ ورکشاپس کے ایک حصے کے طور پر تیار کی ہیں جو ریاستی تعلیمی تحقیق اور تربیت (ڈی .ایس .ای .آر .ٹی )، کرناٹک کے تعاون سے شروع کیے گئے ہیں۔ ٢٠٢٣-٢٠٢٤کے دوران آئی ٹی فار چینج کے ساتھ اس پروگرام کا مقصد ڈیجیٹل میڈیم کے پیش کردہ نئے امکانات کے ساتھ ساتھ ایک تدریسی ٹول کے طور پر کہانی سنانے کی طاقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طلباء کی زبان سیکھنے کے عمل کو تقویت دینا ہے۔" تمام کہانیاں اوپن ایجوکیشنل ریسورسز (او . ای . آر ) ہیں اور آزادانہ طور پر استعمال اور ش...

Autor

IT for Change

Kategorie

Uncategorized

Neueste Folge

15. Jul 2024

Wo hören?

Podcasts in der App Replaio Radio Bald verfügbar

Podcasts kommen bald in die App. Installiere sie jetzt und erlebe als Erster einen ganz neuen Blick auf Podcasts

Bei Google Play herunterladen Kostenlos installieren Android fast 10 Mio. Downloads · Bewertung 4,8 iOS bald

Folgen

سنو سب کی کرومن کی 15.07.2024

مصنف : شیوا ہری ادھیکاربرائے پرتھم اسٹوری ویور کہانی گو : عبداللہ مدثر مدیر : ریاض احمد یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو دوسروں کے مشوروں پر عمل کرکے بہت نقصان اٹھاتا ہے۔ اس کہانی کے ذریعے طلباء میں تنقیدی و تجزیاتی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔طلباءکے ساتھ چند مسائل پر تبادلۂ خیال کیا جاسکتا ہے ۔ان کے ساتھ اپنے اطراف میں یا روزمرہ زندگی سے جڑےکچھ حالات پر بحث و مباحثہ کیا جا سکتا ہے۔طلباء میں ح...

اپنے بالوں کی حفاظت میں 15.07.2024

"اپنے بالوں کی حفاظت میں" ایک مزاحیہ اور سبق آموز کہانی ہے جو ایک نوجوان طالب علم کی زندگی کے ایک دلچسپ واقعے پر مبنی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار ایک اسکول کا طالب علم ہے جو اپنے لمبے بالوں سے بہت محبت کرتا ہے اور انہیں کٹوانا نہیں چاہتا۔  سرگرمی صفحہ

Höre den Podcast کتھے خجانے - اردو in Replaio

Radio und Podcasts in einer App - kostenlos und ohne Anmeldung. Installiere sie noch heute und verpasse den Start nicht

Bei Google Play herunterladen

Replaio ist kein Herausgeber von Podcasts; die Namen der Sendungen, Cover und Audioinhalte gehören ihren Autoren und werden über öffentliche RSS-Feeds verbreitet